اللؤلؤ والمرجان
كتاب الحيض— کتاب: حیض کے مسائل
باب القدر المستحب من الماء في غسل الجنابة باب: غسل جنابت میں کتنا پانی لینا بہتر ہے
حدیث نمبر: 185
185 صحيح حديث عَائِشَة سَأَلَهَا أَخُوهَا عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ نَحْوٍ مِنْ صَاعٍ، فَاغْتَسَلَتْ وَأَفَاضَتْ عَلَى رَأْسِهَا؛ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا حِجَابٌ (قَوْلَ أَبِي سَلَمَةَ)مولانا داود راز
ابو مسلمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکے بھائی (سیّدناعبدالرحمن بن ابی بکر) نے ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے بارے میں سوال کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاع جیسا ایک برتن منگوایا۔ پھر غسل کیا اور اپنے اوپر پانی بہایا اس وقت ہمارے درمیان اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا ۔
وضاحت:
یہ سیّدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکے رضاعی بھانجے تھے۔ اور آپ کے محرم تھے۔ ابو سلمہ سیّدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ام المومنین کے پاس گئے تو انہوں نے پردہ سے غسل فرما کر ان کو طریقہ غسل کی تعلیم فرمائی۔ (راز)