اللؤلؤ والمرجان
كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها— کتاب: جنت اور اس کی نعمتیں اور اہل جنت کے اوصاف
باب عرض مقعد الميت من الجنة أو النار عليه، وإِثْبات عذاب القبر والتعوّذ منه باب: میت کو اس کا ٹھکانہ دکھائے جانے کا بیان اور عذاب قبر کا اثبات اور اس سے پناہ مانگنے کا بیان
حدیث نمبر: 1825
1825 صحيح حديث الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أُقْعِدَ الْمُؤْمِنُ فِي قَبْرِهِ أُتِيَ، ثُمَّ شَهِدَ أَنْ لاَ إِله إِلاَّ اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فَذلِكَ قَوْلُهُ (يُثَبِّتُ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا بَالْقَوْلِ الثَّابِتِ)مولانا داود راز
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن جب اپنی قبر میں بٹھایا جاتا ہے تو اس کے پاس فرشتے آتے ہیں۔ وہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں تویہ اللہ کے اس فرمان کی تعبیر ہے جو سورۂ ابراہیم میں ہے کہ اللہ ایمان والوں کو دنیا کی زندگی اور آخرت میں ٹھیک بات، یعنی توحید پر مضبوط رکھتا ہے۔