اللؤلؤ والمرجان
كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها— کتاب: جنت اور اس کی نعمتیں اور اہل جنت کے اوصاف
باب عرض مقعد الميت من الجنة أو النار عليه، وإِثْبات عذاب القبر والتعوّذ منه باب: میت کو اس کا ٹھکانہ دکھائے جانے کا بیان اور عذاب قبر کا اثبات اور اس سے پناہ مانگنے کا بیان
1824 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ، أَتَاهُ مَلَكَانِ، فَيُقعِدَانِهِ فَيقُولاَنِ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هذَا الرَّجُلِ (لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ، قَدْ أَبْدَلَكَ اللهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّةِ فَيَرَاهُمَا جَمِيعًاحضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور جنازہ میں شریک ہونے والے لوگ اس سے رخصت ہوتے ہیں تو ابھی وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہوتا ہے کہ دو فرشتے (منکر نکیر) اس کے پاس آتے ہیں‘ وہ اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں کہ اس شخص، یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تو کیا اعتقاد رکھتا تھا ؟ مومن تو یہ کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس جواب پر اس سے کہا جائے گا کہ تو یہ دیکھ اپنا جہنم کا ٹھکانا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں تمھارے لیے جنت میں ٹھکانا دے دیا۔ اس وقت اسے جہنم اور جنت دونوں ٹھکانے دکھائے جائیں گے۔