حدیث نمبر: 182
182 صحيح حديث مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: صَبَبْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلاً، فَأَفْرَغَ بِيَمِينِهِ عَلَى يَسَارِهِ، فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ غَسَلَ فَرْجَهُ، ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ الأَرْضَ، فَمَسَحَهَا بِالتُّرَابِ، ثُمَّ غَسَلَهَا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَأَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِمِنْدِيلٍ، فَلَمْ يَنْفُضْ بِهَا
مولانا داود راز

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے غسل کا پانی ر۔کھا تو پہلے آپ نے پانی کو دائیں ہاتھ سے بائیں پر گرایا۔ اس طرح اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا۔ پھر اپنی شرمگاہ کو دھویا۔ پھر اپنے ہاتھ کو زمین پر رگڑ کر اسے مٹی سے ملا اور دھویا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا۔ پھر اپنے چہرے کو دھویا اور اپنے سر پر پانی بہایا۔ پھر ایک طرف ہو کر دونوں پاؤں دھوئے پھر آپ کو رومال دیا گیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پانی کو خشک نہیں کیا۔

وضاحت:
امام ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا کہ وضو کے بعد اعضاء کے پونچھنے کے بارے میں کوئی صحیح حدیث نہیں آئی۔ بلکہ صحیح احادیث سے یہی ثابت ہے کہ غسل کے بعد آپ نے رومال واپس کر دیا۔ جسم مبارک کو اس سے نہیں پونچھا۔ امام نووی رحمہ اللہ نے کہا کہ اس بارے میں بہت اختلاف ہے۔ کچھ لوگ مکروہ جانتے ہیں۔ کچھ مستحب کہتے ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ پونچھنا اور نہ پونچھنا برابر ہے۔ ہمارے نزدیک یہی مختار ہے۔ (راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الحيض / حدیث: 182
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 5 كتاب الغسل: 7 باب المضمضة والاستنشاق في الجنابة»