حدیث نمبر: 1815
1815 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، وَذَكَرَ النَّاقَةَ وَالَّذِي عَقَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا) انْبَعَثَ لَهَا رَجُلٌ عَزِيزٌ عَارِمٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ، مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ وَذَكَرَ النِّسَاءَ فَقَالَ: يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ، يَجْلِدُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ، فَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ، وَقَالَ لِمَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ
مولانا داود راز

حضرت عبد اللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ٗ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا ذکر فرمایا اور اس شخص کا بھی ذکر فرمایا جس نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالی تھیں پھر آپ نے ارشاد فرمایا اذ انبعث اشقھا یعنی اس اونٹنی کو مار ڈالنے کے لیے ایک مفسد بدبخت (قدار نامی) جو اپنی قوم میں ابو زمعہ کی طرح غالب اور طاقتور تھا، اٹھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے حقوق کا بھی ذکر فرمایا کہ تم میں بعض اپنی بیوی کو غلام کی طرح کوڑے مارتے ہیں حالانکہ اسی دن کے ختم ہونے پر وہ اس سے ہم بستری بھی کرتے ہیں۔ پھر آپ نے انہیں ہوا خارج ہونے پر ہنسنے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ ایک کام جو تم میں ہر شخص کرتا ہے اسی پر تم دوسروں پر کس طرح ہنستے ہو۔

وضاحت:
راوي حدیث:… حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ م المومنین حضرت سودہ کے بھائی تھے۔ ان کا شمار اہل مدینہ میںہوتا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن وفات پائی۔ ان سے عروۃ بن زبیر روایت کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها / حدیث: 1815
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 91 سورة والشمس: 1 باب حدثنا موسى بن إسماعيل»