حدیث نمبر: 1810
1810 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ، حَتَّى يَضَعَ رَبُّ الْعِزَّةِ فِيهَا قَدَمَهُ فَتَقُولُ قطِ قَطِ وَعِزَّتِكَ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْض
مولانا داود راز

سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم برابر یہی کہتی رہے گی کہ کیا کچھ اور ہے کیا کچھ اور ہے؟ آخر اللہ تبارک وتعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے گا تو وہ کہہ اٹھے گی بس بس میں بھر گئی، تیری عزت کی قسم!اور اس کا بعض حصہ بعض کو کھانے لگے گا۔

وضاحت:
روایت میں ’’قدم‘‘ کا لفظ آیا ہے جس پر ایمان لانا فرض ہے اور اس کی حقیقت کے اندر بحث کرنا بدعت ہے۔ اور حقیقت کو علم الٰہی کے حوالے کر دینا کافی ہے۔ سلف صالحین کا یہی عقیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر تشبیہ سے منزہ ہے۔ (راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها / حدیث: 1810
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 83 كتاب الأيمان والنذور: 12 باب الحلف بعزة الله وصفاته وكلماته»