حدیث نمبر: 1761
1761 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ ابْنِ عُمَرَ، آخِذٌ بِيَدِهِ، إِذْ عَرَضَ رَجُلٌ فَقَالَ: كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّجْوَى فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ اللهَ يُدْنِي الْمُؤْمِنَ، فَيَضَعُ عَلَيْهِ كَنَفَهُ وَيَسْترُهُ: فَيَقُولُ: أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا فَيَقُولُ: نَعَمْ أَيْ رَبِّ حَتَّى إِذَا قَرَّرَهُ بِذُنوبِهِ، وَرَأَى فِي نَفْسِهِ أَنَّهُ هَلَكَ قَالَ: سَتَرْتُهَا عَليْكَ فِي الدُّنْيَا وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ فَيُعْطَى كِتَابَ حَسَنَاتِهِ وَأَمَّا الْكَافِرُ وَالْمُنَافِقُونَ فَيَقُولُ الأَشْهَادُ: هؤُلاَءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلاَ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الظَّالِمِينَ
مولانا داود راز

صفوان بن محرزمازنی نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماکے ہاتھ میں ہاتھ دیے جارہا تھا کہ ایک شخص سامنے آیا اور پوچھا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے (قیامت میں اللہ اور بندے کے درمیان ہونے والی) سرگوشی کے بارے میں کیا سنا ہے؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے نزدیک بلا لے گا اور اس پر اپنا پردہ ڈال دے گا اور اسے چھپا لے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کیا تجھ کو فلاں گناہ یاد ہے؟ کیا فلاں گناہ تجھ کو یاد ہے؟ وہ مومن کہے گا ہاں، اے میرے پروردگار۔ آخر جب وہ اپنے گناہوں کا اقرار کر لے گا اور اسے یقین آجائے گا کہ اب وہ ہلاک ہوا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تیرے گناہوں پر پردہ ڈالا اور آج بھی میں تیری مغفرت کرتا ہوں۔ چنانچہ اسے اس کی نیکیوں کی کتاب دے دی جائے گی، لیکن کافر اور منافق کے متعلق ان پر گواہ (ملائکہ، انبیا اور تمام جن و انس سب) کہیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا تھا۔ خبردار ہو جاؤ! ظالموں پراللہ کی پھٹکار ہو گی۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب التوبة / حدیث: 1761
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 46 كتاب المظالم: 2 باب قول الله تعالى (ألا لعنة الله على الظالمين»