حدیث نمبر: 1752
1752 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ: فَإِذَا مَاتَ، فَحَرِّقُوهُ، وَاذْرُوا نِصْفَهُ فِي الْبَرِّ، وِنِصْفَهُ فِي الْبَحْرِ فَوَاللهِ لَئِنْ قَدَرَ اللهُ عَلَيْهِ، لَيُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا، لاَ يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ فَأَمَرَ اللهُ الْبَحْرَ، فَجَمَعَ مَا فِيهِ وَأَمَرَ الْبَرَّ فَجَمَعَ مَا فِيهِ ثُمَّ قَالَ: لِمَ فَعَلْتَ قَالَ: مِنْ خَشْيَتِكَ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ فَغَفَرَ لَهُ
مولانا داود راز

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص جس نے (بنی اسرائیل میں سے) کوئی نیک کام کبھی نہیں کیا تھا، وصیت کی کہ جب وہ مر جائے تو اسے جلا ڈالیں اور اس کی آدھی راکھ خشکی میں اور آدھی دریا میں بکھیر دیں کیونکہ اللہ کی قسم اگر اللہ نے مجھ پر قابو پا لیا تو ایسا عذاب مجھ کو دے گا جو دنیا کے کسی شخص کو بھی وہ نہیں دے گا۔ پھر اللہ نے سمندر کو حکم دیا اور اس نے تمام راکھ جمع کر دی جو اس کے اندر تھی، پھر اس نے خشکی کو حکم دیا اور اس نے بھی اپنی تمام راکھ جمع کر دی جو اس کے اندر تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا تو نے ایسا کیوں کیا تھا؟ اس نے عرض کیا: اے رب!تیرے خوف سے میں نے ایسا کیا اور تو سب سے زیادہ جاننے والا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب التوبة / حدیث: 1752
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 97 كتاب التوحيد: 34 باب قول الله تعالى (يريدون أن يبدلوا كلام الله»