اللؤلؤ والمرجان
كتاب العلم— کتاب: کتاب العلم
باب رفع العلم وقبضه وظهور الجهل والفتن في آخر الزمان باب: آخر زمانہ میں علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت اور فتنے عام ہو جائیں گے
حدیث نمبر: 1712
1712 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول: إِنَّ الله لاَ يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا، يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ وَلكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقبْضِ الْعُلَمَاءِ حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا، اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالاً، فَسُئِلُوا، فَأَفْتَوْا بغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوامولانا داود راز
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھا لے گا کہ اس کو بندوں سے چھین لے، لیکن وہ (پختہ کار) علما کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا، حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے، ان سے سوالات کیے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے جواب دیں گے۔ اس لیے خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔
وضاحت:
یعنی لوگ عیش و عشرت اور غفلت میں پڑ جائیں گے۔ ان کو ایک سال ایسے لگے گا جیسے ایک ماہ، ایک ماہ ایسے جیسے ایک ہفتہ، ایک ہفتہ ایک دن کی طرح لگے گا۔ (راز)