حدیث نمبر: 1698
1698 صحيح حديث عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيُعْرَفُ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَلِمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ قَالَ: كُلٌّ يَعْمَلُ لِمَا خُلِقَ لَهُ، أَوْ لِمَا يُسِّرَ لَهُ
مولانا داود راز

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے، کہ ایک صاحب نے (یعنی خود انہوں نے) عرض کیا یا رسول اللہ!کیا جنت کے لوگ اہل جہنم میں سے پہچانے جا چکے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ پھر عمل کرنے والے کیوں عمل کریں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص وہی عمل کرتا ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے یا جس کے لئے اسے سہولت دی گئی ہے۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب القدر / حدیث: 1698
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 82 كتاب القدر: 2 باب جف القلم على علم الله»