حدیث نمبر: 1647
1647 صحيح حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رضي الله عنهما، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِين يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِين يَلُونَهُمْ» قَالَ عِمْرَانُ: لاَ أَدْرِي، أذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعْدُ، قَرْنَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةً، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ بَعْدَكُمْ قَوْماً يَخُونُونَ وَلاَ يُؤْتَمَنونَ، وَيَشْهَدُونَ وَلاَ يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَنْذِرُونَ وَلاَ يَفُونَ، وَيَظْهَرَ فِيهِمُ السِّمَنُ»
مولانا داود راز

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر میرے زمانے کے لوگ (صحابہ) ہیں پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے۔ (تابعین) پھر وہ لوگ جو ان کے بھی بعد آئیںگے (تبع تابعین) عمران نے بیان کیا کہ میں نہیں جانتا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دو زمانوں کا (اپنے بعد) ذکر فرمایا یا تین کا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمھارے بعد ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو چور ہوں گے، جن میں دیانت کا نام نہ ہو گا۔ ان سے گواہی دینے کے لیے نہیں کہا جائے گا، لیکن وہ گواہیاں دیتے پھریں گے۔ نذریں مانیں گے، لیکن پوری نہیں کریں گے، موٹاپا ان میں عام ہو گا۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 1647
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجہ البخاري في: 52 کتاب الشہادات: 9 باب لا یشہد علی شہادۃ جور إذا أُشہد۔»