حدیث نمبر: 1645
1645 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخدْرِيِّ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَأْتِي زَمَانَ يَغْزو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُقَالُ: نَعَمْ فَيُفْتَحَ عَلَيْهِ ثُمَّ يَأْتِي زَمَانٌ فَيُقَال: فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُقَالُ: نَعَمْ فَيُفْتَحُ ثُمَّ يَأْتِي زَمَانٌ فَيُقَالُ: فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ صَاحِبَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيقَالُ: نَعَم فَيُفْتَحُ
مولانا داود راز

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ مسلمانوں کی فوج جہاد پر ہو گی پوچھا جائے گا کہ کیا فوج میں کوئی ایسے بزرگ بھی ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی ہو؟ کہا جائے گا کہ ہاں تو (دعا کے لیے انہیں آگے بڑھا کے) ان سے فتح کی دعا کرائی جائے گی۔ پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا اس وقت اس کی تلاش ہو گی کہ کوئی ایسے بزرگ مل جائیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی صحبت اٹھائی ہو، (یعنی تابعی) ایسے بھی بزرگ مل جائیں گے اور ان سے فتح کی دعا کرائی جائے گی۔ اس کے بعد ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ (سپاہیوں سے) پوچھا جائے گا کہ کیا تم میں کوئی ایسے بزرگ ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے شاگردوں کی صحبت اٹھائی ہو (یعنی تبع تابعی) کہا جائے گا کہ ہاں اور ان سے فتح کی دعا کرائی جائے گی۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 1645
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 76 باب من استعان بالضعفاء والصالحين في الحرب»