حدیث نمبر: 1641
1641 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَا زِلْتُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ مُنْذُ ثَلاَثٍ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيهِمْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: هُمْ أَشَدُّ أَمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ قَالَ: وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا وَكَانَتْ سَبيَّة مِنْهُمْ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَ: أَعْتِقِيهَا، فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلِ
مولانا داود راز

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تین باتوں کی وجہ سے جنھیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ میں بنو تمیم سے ہمیشہ محبت کرتا ہوں۔ رسولِ کریمﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ لوگ دجال کے مقابلے میں میری امت میں سب سے زیادہ سخت مخالف ثابت ہوں گے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (ایک مرتبہ) بنو تمیم کے یہاں سے زکات (وصول ہو کر آئی) تو رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ ہماری قوم کی زکات ہے۔ بنو تمیم کی ایک عورت قید ہو کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے پاس تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اسے آزاد کر دے کہ یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہے۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 1641
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 49 كتاب العتق: 13 باب من ملك من العرب رقيقًا فوهب وباع»