اللؤلؤ والمرجان
كتاب فضائل الصحابة— کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے فضائل
باب من فضائل جرير بن عبد الله رضی اللہ عنہ باب: حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے فضائل
حدیث نمبر: 1608
1608 صحيح حديث جَرِيرٍ رضي الله عنه، قَالَ: مَا حَجَبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلاَ رَآنِي إِلاَّ تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي وَلَقَدْ شَكَوْتُ إِلَيْهِ أَنِّي لاَ أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي، وَقَالَ: اللهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّامولانا داود راز
حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب سے میں اسلام لایا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (پردہ کے ساتھ) مجھے (اپنے گھر میں داخل ہونے سے) کبھی نہیں روکا اور جب بھی آپ مجھ کو دیکھتے، خوشی سے مسکرانے لگتے۔ ایک دفعہ میں نے آپ ﷺ کی خدمت میں شکایت کی کہ میں گھوڑے کی سواری پر اچھی طرح نہیں جم پاتا ہوں، تو آپ نے میرے سینے پر اپنا دست مبارک مارا، اور دعا کی: اے اللہ! اسے گھوڑے پر جما دے اور دوسروں کو سیدھا راستہ بتانے والا بنا دے اور خود اسے بھی سیدھے راستے پر قائم رکھیے۔