اللؤلؤ والمرجان
كتاب فضائل الصحابة— کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے فضائل
باب في فضل عائشة رضی اللہ عنہ باب: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے فضائل
حدیث نمبر: 1583
1583 صحيح حديث عَائِشةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَسْأَلُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، يَقُولُ: أَيْنَ أَنَا غَدًا أَيْنَ أَنَا غَدًا يُرِيدُ عَائِشَةَ فَأَذِنَ لَهُ أَزْوَاجُهُ يَكونُ حَيْثُ شَاءَ فَكَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ حَتَّى مَاتَ عِنْدَهَا قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَاتَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي كَانَ يَدورُ عَلَيَّ فِيهِ، فِي بَيْتِي فَقَبَضَهُ اللهُ وَإِنَّ رَأْسَهُ لَبَيْنَ نَحْرِي وَسَحْرِيمولانا داود راز
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ مرض الموت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے رہتے تھے کہ کل میرا قیام کہاں ہو گا، کل میرا قیام کہاں ہو گا؟ آپ عائشہ رضی اللہ عنہاکی باری کے منتظر تھے، پھر ازواج مطہرات علیہ السلام نے اجازت دے دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں چاہیں قیام فرمائیں تو آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے گھر قیام کیا اور آپ کی وفات بھی وہیں ہوئی۔ عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ آپ کی وفات اسی دن ہوئی جس دن قاعدہ کے مطابق میرے یہاں آپ کے قیام کی باری تھی۔ رحلت کے وقت سر مبارک میرے سینے اور گردن کے درمیان تھا۔