حدیث نمبر: 1577
1577 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا غِرْتُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، وَمَا رَأْيْتُهَا وَلكِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِر ذِكْرَهَا وَرُبَّمَا ذَبَحَ الشَّاةَ ثُمَّ يُقَطِّعُهَا أَعْضَاءً، ثُمَّ يَبْعَثُهَا فِي صَدَائِقِ خَدِيجَةَ؛ فَرُبَّمَا قُلْتُ لَهُ: كَأَنَّهُ لَمْ يَكنْ فِي الدُّنْيَا امْرَأَةٌ إِلاَّ خَدِيجَةُ فَيَقُولُ: إِنَّهَا كَانَتْ، وَكَانَتْ، وَكَانَ لِي مِنْهَا وَلَدٌ
مولانا داود راز

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں میں جتنی غیرت مجھے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ سے آتی تھی اتنی کسی اور سے نہیں آتی تھی ، حالانکہ انہیں میں نے دیکھا بھی نہیں تھا لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ذکر بکثرت فرمایا کرتے تھے اور اگر کبھی کوئی بکری ذبح کرتے تو اس کے ٹکڑے کرکے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کی ملنے والیوں کو بھیجتے تھے میں نے اکثر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جیسے دنیا میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی عورت ہے ہی نہیں! اس پر آپﷺ فرماتے کہ وہ ایسی تھیں اور ایسی تھیں اور ان سے میری اولاد ہے۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 1577
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 20 باب تزويج النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خديجة وفضلها»