اللؤلؤ والمرجان
كتاب فضائل الصحابة— کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے فضائل
باب فضائل زيد بن حارثة وأسامة بن زيد رضی اللہ عنہ باب: حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے فضائل
1571 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَطَعَنَ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِمَارَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ تَطْعُنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ كُنْتُمْ تَطْعُنُونَ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ، وَايْمُ اللهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلإِمَارَةِ، وَإِنْ كَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّ هذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُحضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوج بھیجی اور اس کا امیر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کوبنایا ان کے امیر بنائے جانے پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر آج تم اس کے امیر بنائے جانے پر اعتراض کر رہے ہو تو اس سے پہلے اس کے باپ کے امیر بنائے جانے پر بھی تم نے اعتراض کیا تھا اور خدا کی قسم وہ (زید رضی اللہ عنہ ) امارت کے مستحق تھے اور مجھے سب سے زیادہ عزیزتھے اور یہ(اسامہ رضی اللہ عنہ ) اب ان کے بعد مجھے سب سے زیادہ عزیز ہیں۔