حدیث نمبر: 1568
1568 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيِّ رضي الله عنه، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةِ النَّهَارِ، لاَ يُكَلِّمُنِي وَلاَ أُكَلِّمُهُ، حَتَّى أَتَى سُوقَ بَنِي قَيْنُقَاعَ، فَجَلَسَ بِفَناءِ بَيْتِ فَاطِمَةَ، فَقَالَ: أَثَمَّ لُكَعُ أَثَمَّ لُكَعُ فَحَبَسَتْهُ شَيْئًا، فَظَنَنْتُ أَنَّهَا تلْبِسُهُ سِخَابًا، أَوْ تُغَسِّلُهُ فَجاءَ يَشْتَدُّ حَتَّى عَانَقَهُ وَقَبَّلَهُ، وَقَالَ: اللهُمَّ أَحْبِبْهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّه
مولانا داود راز

حضرت ابوہریرہ دوسی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے ایک حصے میں تشریف لے چلے۔ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کوئی بات کی اور نہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اسی طرح آپ بنی قینقاع کے بازار میں آئے پھر (واپس ہوئے اور) فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے آنگن میں بیٹھ گئے اور فرمایا: وہ بچہ کہاں ہے، وہ بچہ کہاں ہے؟ فاطمہ رضی اللہ عنہا (کسی مشغولیت کی وجہ سے فوراً) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہ ہو سکیں۔ میں نے خیال کیا، ممکن ہے حسن رضی اللہ عنہ کو کرتا وغیرہ پہنا رہی ہوں یا نہلا رہی ہوں۔ تھوڑی ہی دیر بعد حسن رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے، آپ نے ان کو سینے سے لگا لیا اور بوسہ لیا۔ پھر فرمایا: اے اللہ! اسے محبوب رکھ اور اس شخص کو بھی محبوب رکھ جو اس سے محبت رکھے۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 1568
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 34 كتاب البيوع: 49 باب ما ذكر في الأسواق»