حدیث نمبر: 1559
1559 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَيْتَ فَاطِمَةَ، فَلَمْ يَجِدْ علِيًّا فِي الْبَيْتِ فَقَالَ: أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ قَالَتْ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ، فَغَاضَبَنِي، فَخَرَجَ، فَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لإِنْسَانٍ: انْظُرْ أَيْنَ هُوَ فَجَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هُوَ فِي الْمَسْجِدِ رَاقِدٌ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُضْطَجِعٌ، قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقِّهِ، وَأَصَابَهُ تُرَابٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُهُ عَنْهُ، وَيَقُولُ: قُمْ أَبا تُرَابٍ قُمْ أَبَا تُرَابٍ
مولانا داود راز

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے دیکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ گھر میں موجود نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمھارے چچا کے بیٹے کہاں ہیں؟ انھوں نے بتایا کہ میرے اور ان کے درمیان کچھ ناگواری پیش آگئی اور وہ مجھ پر خفا ہوکر کہیں باہر چلے گئے ہیں اور میرے یہاں قیلولہ بھی نہیں کیا ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ کو تلاش کرو کہاں ہیں؟ وہ آئے اور بتایا کہ مسجد میں سوئے ہوئے ہیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ لیٹے ہوئے تھے، چادر آپ کے پہلو سے گر گئی تھی اور جسم پر مٹی لگ گئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جسم سے دھول جھاڑتے جاتے تھے اورفرما رہے تھے: اٹھو ابوتراب اٹھو۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 1559
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 58 باب نوم الرجال في المسجد»