حدیث نمبر: 1557
1557 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضي الله عنه، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، يَوْمَ خَيْبَرَ: لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلاً يَفتَحُ اللهُ عَلَى يَديْهِ فَقَامُوا يَرْجُونَ لِذلِكَ، أَيُّهُمْ يُعْطَى فَغَدَوْا وَكُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطِي فَقَالَ: أَيْنَ عَلِيٌّ فَقِيلَ: يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ فَأَمَرَ، فَدُعِي لَهُ، فَبَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ، فَبَرَأَ مَكَانَهُ حَتَّى كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِهِ شَيْءٌ فَقَالَ: نقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا فَقَالَ: عَلَى رِسْلِكَ، حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الإِسْلاَمِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ، فَوَاللهِ لأَنْ يُهْدَى بِكَ رَجُلٌ وَاحِدٌ خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ
مولانا داود راز

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی لڑائی کے دن فرمایا تھا کہ اسلامی جھنڈا میں ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں گا جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ فتح عنایت فرمائے گا۔ اب سب اس انتظار میں تھے کہ دیکھئے جھنڈا کسے ملتا ہے، جب صبح ہوئی تو سب سرکردہ لوگ اسی امید میں رہے کہ کاش! انہیں کو مل جائے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا علی کہاں ہیں؟ عرض کیا گیا کہ وہ آنکھوں کے درد میں مبتلا ہیں۔ آخر آپﷺ کے حکم سے انہیں بلایا گیا۔ آپﷺ نے اپنا لعاب دہن مبارک ان کی آنکھوں میں لگا دیا اور فوراً ہی وہ اچھے ہو گئے۔ جیسے پہلے کوئی تکلیف ہی نہ رہی ہو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا ہم ان (یہودیوں سے) اس وقت تک جنگ کریں گے جب تک یہ ہمارے جیسے (مسلمان) نہ ہو جائیں، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی ٹھہرو پہلے ان کے میدان میں اتر کر انہیں تم اسلام کی دعوت دے لو اور ان کے لیے جو چیزیں ضروری ہیں ان کی خبر کر دو (پھراگر وہ نہ مانیں تو لڑنا) اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعے ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ تمہارے حق میں سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 1557
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 102 باب دعاء النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إلى الإسلام والنبوة»