حدیث نمبر: 1548
1548 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ، عَلَيْهَا دَلْوٌ فَنَزَعْتُ مِنْهَا مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ فَنَزَعَ بِهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزعِهِ ضَعْفٌ، وَاللهُ يَغْفرُ لَهُ ضَعْفَهُ ثُمَّ اسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَأَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَابِ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَنْزِعُ نَزْعَ عُمَرَ، حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بَعَطَنٍ
مولانا داود راز

سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: میں سو رہا تھا کہ خواب میں، میں نے اپنے آپ کو ایک کنویں پر دیکھا جس پر ڈول تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جتنا چاہا میں نے اس ڈول سے پانی کھینچا، پھر اسے ابن ابی قحافہ(حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ) نے لے لیا اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچے۔ ان کے کھینچنے میں کچھ کمزوری سی معلوم ہوئی۔ اللہ ان کی اس کمزوری کو معاف فرمائے۔ پھر اس ڈول نے ایک بہت بڑے ڈول کی صورت اختیار کرلی اور اسے عمر بن خطاب نے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ میں نے ایسا شہ زور پہلوان آدمی نہیں دیکھا جو عمر کی طرح ڈول کھینچ سکتا۔ انہوں نے اتنا پانی نکالا کہ لوگوں نے اپنے اونٹوں کو حوض سے سیراب کرلیا۔

وضاحت:
یہ خلافت اسلامی کو سنبھالنے پر اشارہ ہے۔ جیسا کہ وفات نبوی کے بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ دو اڑھائی سال خلافت کے منصب پر فائز رہے اور مختلف فتنوں کی کامیابی سے سرکوبی کی۔ بعد میں فاروقی دور شروع ہوا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خلافت کا حق ادا کر دیا کہ فتوحات اسلامی کا سیلاب دور دور تک پہنچ گیا اور خلافت کے ہر شعبہ میں ترقی کے دروازے کھل گئے۔ (راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 1548
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 62 كتاب فضائل أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 5 باب قول النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (لو كنت متخذًا خليلاً»