حدیث نمبر: 1544
1544 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلاَةَ الصُّبْحِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: بَيْنَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً إِذْ رَكِبهَا فَضَرَبَهَا فَقَالَتْ: إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهذَا؛ إِنَّمَا خُلِقْنَا لِلْحَرْثِ فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللهِ بَقَرَةٌ تَكَلَّمُ فَقَالَ: فَإِنِّي أُومِنُ بِهذَا، أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمَا هُمَا ثَمَّ وَبَيْنَمَا رَجُلٌ فِي غَنَمِهِ إِذْ عَدَا الذِّئْبُ فَذَهَبَ مِنْهَا بَشَاةٍ، فَطَلَبَ حَتَّى كَأَنَّهُ اسْتَنْقَذَهَا مِنْهُ، فَقَالَ لَهُ الذِّئْبُ: هذَا، اسْتَنْقَذْتَهَا مِنِّي، فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ، يَوْمَ لاَ رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللهِ ذِئْبٌ يَتَكَلَّمُ قَالَ: فَإِنِّي أُومِنُ بِهذَا أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمَا هُمَا ثَمَّ
مولانا داود راز

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھی، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ایک شخص (بنی اسرائیل کا) اپنی گائے ہانکے لئے جا رہا تھا کہ وہ اس پر سوار ہو گیا اور پھر اسے مارا۔ اس گائے نے (بقدرت الٰہی) کہا کہ ہم جانور سواری کے لیے نہیں پیدا کئے گئے۔ ہماری پیدائش تو کھیتی کے لیے ہوئی ہے۔ لوگوں نے کہا: سبحان اللہ! گائے بات کرتی ہے۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس بات پر ایمان لاتا ہوں اور ابو بکر اور عمر بھی۔ حالانکہ یہ دونوں وہاں موجود بھی نہیں تھے۔ اسی طرح ایک شخص اپنی بکریاں چرا رہا تھا کہ ایک بھیڑیا آیا اور ریوڑ میں سے ایک بکری اٹھا کر لے جانے لگا۔ چرواہا دوڑا اور اس نے بکری کو بھڑیئے سے چھڑا لیا۔ اس پر بھیڑیا (بقدرت الٰہی) بولا : آج تو تم نے مجھ سے اسے چھڑا لیا لیکن درندوں والے دن میں (قرب قیامت) اسے کون بچائے گا جس دن میرے سوا اور کوئی اس کا چرواہا نہ ہوگا؟ لوگوں نے کہا : سبحان اللہ! بھیڑیا باتیں کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو اس بات پر ایمان لایا اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہ بھی۔ حالانکہ وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہ تھے۔

وضاحت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرات شیخین کی قوت ایمان پر یقین تھا، اسی لیے آپ نے ان کو اس پر ایمان لانے میں شریک فرمایا۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس نے گائے اور بھیڑئیے کو کلام کرنے کی طاقت دے دی۔ اس میں دلیل ہے کہ جانوروں کا استعمال ان ہی کاموں کے لیے ہونا چاہیے جن میں بطور عادت وہ استعمال کیے جاتے ہیں۔ (فتح الباری)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 1544
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 54 باب حدثنا أبو اليمان»