حدیث نمبر: 1542
1542 صحيح حديث عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلاَسِلِ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ: عَائِشَةُ فَقُلْتُ: مِنَ الرِّجَالِ قَالَ: أَبُوهَا، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ قَالَ: ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَعَدَّ رِجَالاً
مولانا داود راز

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غزوۂ ذات السلاسل کے لیے بھیجا (عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ) پھر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ سب سے زیادہ محبت آپ کو کس سے ہے؟ آپ نے فرمایا کہ عائشہ رضی اللہ عنہاسے۔ میں نے پوچھا، اور مردوںمیں ؟ فرمایا کہ اس کے باپ سے ۔ میں نے پوچھا، اس کے بعد؟ فرمایا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے۔ اس طرح آپ نے کئی آدمیوں کے نام لئے۔ (﷢)

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب فضائل الصحابة / حدیث: 1542
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 62 كتاب فضائل أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 5 باب قول النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (لو كنت متخذًا خليلاً»