اللؤلؤ والمرجان
كتاب الفضائل— کتاب: فضائل و مناقب کا بیان
باب إِثبات خاتم النبوة وصفته ومحله من جسده صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: مہر نبوت کا ثبوت، اس کی صفات اور جسد اطہر میں اس کا مقام
1513 صحيح حديث السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ ابْنَ أَخْتِي وَجِعٌ فَمَسَحَ رَأْسِي، وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ، ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَةِحضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میری خالہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! میرا یہ بھانجا بیمار ہے، آپ نے میرے سر پر اپنا ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی پیا۔ پھر میں آپ کی کمر کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور میں نے مہر نبوت دیکھی جو آپ کے مونڈھوں کے درمیان ایسی تھی جیسے چھپر کھٹ کی گھنڈی۔ (یا کبوتری کا انڈا) (وضو کا بچا ہوا پانی پاک تھا تب ہی تو اسے پیا گیا۔ پس جو لوگ آب مستعمل کو ناپاک کہتے ہیں وہ بالکل غلط کہتے ہیں)