حدیث نمبر: 1495
1495 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه قَالَ: دَخَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى أَبِي سَيْفٍ الْقَيْنِ وَكَانَ ظِئْرًا لإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِبْرَاهِيمَ فَقَبَّلَهُ وَشَمَّهُ ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَيْهِ، بَعْدَ ذلِكَ، وَإِبْرَاهِيمُ يَجُودُ بِنَفْسِهِ فَجَعَلَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذْرِفَانِ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمنِ بْنُ عَوْفٍ رضي الله عنه: وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: يَا ابْنَ عَوْفٍ إِنَّهَا رَحْمَةٌ ثُمَّ أَتْبَعَهَا بِأُخْرَى فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ، وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ، وَلاَ نَقُولُ إِلاَّ مَا يَرضى رَبُّنَا وَإِنَّا بِفِرَاقِكَ، يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ
مولانا داود راز

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابو سیف لوہار کے ہاں گئے یہ ابراہیم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے رضی اللہ عنہ ) کو دودھ پلانے والی انا کے خاوند تھے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم رضی اللہ عنہ کو گود میں لیا اور پیار کیا اور سونگھا۔ پھر اس کے بعد ہم ان کے یہاں پھر گئے دیکھا کہ اس وقت ابراہیم رضی اللہ عنہ دم توڑ رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بول پڑے کہ یا رسول اللہ! اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی لوگوں کی طرح بے صبری کرنے لگے؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن عوف ! یہ بے صبری نہیں یہ تو رحمت ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ روئے اور فرمایا آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور دل غم سے نڈھال ہے، پر زبان سے ہم کہیں گے وہی جو ہمارے پر وردگار کو پسند ہے اور اے ابراہیم ! ہم تمھاری جدائی سے غمگین ہیں۔

وضاحت:
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ اس طرح آنکھوں سے آنسو نکل آئیں اور دل غمگین ہو اور زبان سے کوئی لفظ اللہ کی ناراضگی کا نہ نکلے تو ایسا رونا بے صبری نہیں۔ (راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الفضائل / حدیث: 1495
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 44 باب قول النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (إنا بك لمحزونون»