اللؤلؤ والمرجان
كتاب الآداب— کتاب: آداب کا بیان
باب كراهة قول المستأذن أنا إِذا قيل من هذا باب: جب کوئی آنے والے سے پوچھے کون ہے تو جواب میں اپنا نام بتائے، میں ہوں کہنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 1392
1392 صحيح حديث جَابِرٍ رضي الله عنه، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي فَدَقَقْتُ الْبَابَ فَقَالَ: مَنْ ذَا فَقُلْتُ: أَنَا فَقَالَ: أَنَا، أَنَا كَأَنَّهُ كَرِهَهَامولانا داود راز
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس قرض کے بارے میں حاضر ہوا جو میرے والد پر تھا۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کون ہیں؟ میں نے کہا ’’میں‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میں‘‘، ’’میں‘‘ جیسے آپ نے اس جواب کو ناپسند فرمایا۔ (کیونکہ بعض وقت صرف آواز سے صاحب خانہ پہچان نہیں سکتا کہ کون ہے اس لیے جواب میں اپنا نام بیان کرنا چاہیے)