حدیث نمبر: 1389
1389 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: أُتِيَ بِالْمُنْذِرِ ابْنِ أَبِي أُسَيْدٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حِينَ وُلِدَ، فَوَضَعَهُ عَلَى فَخِذِهِ، وَأَبُو أُسَيْدٍ جَالِسٌ؛ فَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَمَرَ أَبُو أُسَيْدٍ بِابْنِهِ فَاحْتُمِلَ مِنْ فَخِذِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَفَاقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: أَيْنَ الصَّبِيُّ فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ: قَلَبْنَاهُ، يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: مَا اسْمُهُ قَالَ: فُلاَنٌ قَالَ: وَلكِنْ أَسْمِهِ الْمُنْذِرَ فَسَمَّاهِ يَوْمَئِذٍ الْمُنْذِرَ
مولانا داود راز

سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ منذر بن ابی اسید رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تو انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو اپنی ران پر رکھ لیا۔ ابو اسید رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز میں جو سامنے تھی مصروف ہو گئے(اوربچے کی طرف توجہ سے ہٹ گئی) ابو اسید رضی اللہ عنہ نے بچے کے متعلق حکم دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے اسے اٹھا لیا گیا۔ پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے تو فرمایا: بچے کہاں ہے؟ ابو اسید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ!ہم نے اسے گھر بھیج دیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اس کا نام کیا ہے؟ عرض کیا کہ فلاں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ اس کا نام ’’منذر‘‘ ہے۔ چنانچہ اسی دن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا یہی نام منذر رکھا۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الآداب / حدیث: 1389
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 108 باب تحويل الاسم إلى اسم أحسن منه»