حدیث نمبر: 1288
1288 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: الضَّحِيَّةُ كُنَّا نُمَلِّحُ مِنْهُ، فَنَقْدَمُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ: لاَ تَأْكُلُوا إِلاَّ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَيْسَتْ بِعَزِيمَةٍ، وَلكِنْ أَرَادَ أَنْ يُطْعِمَ مِنْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ
مولانا داود راز

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان کیا کہ مدینہ میں ہم قربانی کے گوشت میں نمک لگا کر رکھ دیتے تھے اور پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھی پیش کرتے تھے پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ نہ کھایا کرو۔ یہ حکم ضروری نہیں تھا بلکہ آپ کا منشاء یہ تھا کہ ہم قربانی کا گوشت (ان لوگوں کو بھی جن کے یہاں قربانی نہ ہوئی ہو) کھلائیں اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الأضاحي / حدیث: 1288
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 73 كتاب الأضاحي: 16 باب ما يؤكل من لحوم الأضاحي وما يتزود منها»