اللؤلؤ والمرجان
كتاب الصيد والذبائح ما يؤكل من الحيوان— کتاب: شکار اور ذبح کے مسائل اور ان جانوروں کا بیان جن کا گوشت حلال ہے
باب تحريم أكل لحم الحمر الإنسية باب: پالتو گدھوں کا گوشت حرام ہے
1265 صحيح حديث ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ، لَيَالِيَ خَيْبَرَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ، وَقَعْنَا فِي الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ فَانْتَحَرْنَاهَا، فَلَمَّا غَلَتِ الْقُدُورُ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْفِئُوا الْقُدُورَ فَلاَ تَطْعَمُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا قَالَ عَبْدُ اللهِ (هُوَ ابْنُ أَبِي أَوْفَى) : فَقُلْنَا إِنَّمَا نَهى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَنَّهَا لَمْ تُخَمَّسْ، قَالَ: وَقَالَ آخَرُونَ حَرَّمَهَا الْبَتَّةَحضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ خیبر کے موقع پر فاقوں پر فاقے ہونے لگے۔ آخر جس دن خیبر فتح ہوا تو (مال غنیمت میں) گھریلو گدھے بھی ہمیں ملے۔ چنانچہ انہیں ذبح کر کے (پکانا شروع کر دیا گیا) جب ہانڈیوں میں جوش آنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ ہانڈیوں کو الٹ دو اور گھریلو گدھے کے گوشت میں سے کچھ نہ کھاؤ۔ عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بعض لوگوں نے اس پر کہا کہ غالباً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے روک دیا ہے کہ ابھی تک اس میں سے خمس نہیں نکالا گیا لیکن بعض دوسرے صحابہ نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے کا گوشت قطعی طور پر حرام قرار دیا ہے۔