حدیث نمبر: 1188
1188 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ خَرَجَ، وَخَرَجَ مَعَهُ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ وَزَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، فَاسْتَسْقَى، فَقَامَ بِهِمْ عَلَى رِجْلَيْهِ، عَلَى غَيْرِ مِنْبَرٍ، فَاسْتَغْفَرَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ، وَلَمْ يُؤَذِّنْ وَلَمْ يُقِمْ
مولانا داود راز

حضرت عبداللہ بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ استسقاء کے لیے باہر نکلے۔ ان کے ساتھ براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ انھوں نے پانی کے لیے دعا کی تو پاؤں پر کھڑے رہے۔ منبر نہ تھا، اسی طرح آپ نے دعا کی پھر دو رکعت نماز پڑھی جس میں قراءت بلند آواز سے کی، نہ اذان کہی اور نہ اقامت۔

وضاحت:
راوي حدیث:… حضرت عبداللہ بن یزید انصاری قبیلہ اوس سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کی کنیت ابو موسیٰ انصاری تھی۔ بیعت رضوان میں شریک تھے۔ ابن زبیر کی طرف سے مکہ کے والی رہے، پھر کوفہ کی امارت سنبھالی اور وہیں ۸۰ سال کی عمر پا کر ۷۰ ہجری سے قبل وفات پا گئے۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الجهاد / حدیث: 1188
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 15 كتاب الاستسقاء: 15 باب الدعاء في الاستسقاء قائمًا»