اللؤلؤ والمرجان
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب جواز قتال من نقض العهد، وجواز إِنزال أهل الحصن على حكم حاكم عدل أهل للحكم باب: جو عہد توڑ ڈالے اس سے لڑائی درست ہے اور محصورین قلعہ کو کسی عادل شخص کی ثالثی پر قلعہ سے باہر نکالنا جائز ہے
1155 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخدْرِيِّ رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ بَنُو قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ، هُوَ ابْنُ مُعَاذٍ، بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ قَرِيبًا مِنْهُ، فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ، فَلَمَّا دَنَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ فَجَاءَ فَجَلَسَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ هؤُلاَءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ قَالَ: فَإِنِّي أَحْكُمُ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ، وَأَنْ تُسْبَى الذُّرِّيَّةُ قَالَ: لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ الْمَلِكِحضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا جب بنوقریظہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی ثالثی کی شرط پر ہتھیار ڈال کر قلعہ سے اتر آئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (سعد رضی اللہ عنہ کو) بلایا۔ اور وہ قریب ہی ایک جگہ ٹھہرے ہوئے تھے(کیونکہ زخمی تھے) حضرت سعد رضی اللہ عنہ گدھے پر سوار ہو کر آئے، جب وہ آپ ﷺ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے سردار کے لیے کھڑے ہو جاؤ (اور ان کو سواری سے اتارو) آخر آپ اتر کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ کر بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان لوگوں (بنوقریظہ ) نے آپ کی ثالثی کی شرط پر ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ (اس لئے آپ ان کا فیصلہ کر دیں) انہوں نے کہا کہ پھر میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان میں جتنے آدمی لڑنے والے ہیں، انہیں قتل کر دیا جائے، اور ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔