اللؤلؤ والمرجان
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب جواز قطع أشجار الكفار وتحريقها باب: کافروں کے درخت کاٹنا اور جلانا جائز ہے
حدیث نمبر: 1140
1140 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ، وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ، فَنَزَلَتْ (مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبإِذْنِ اللهِ)مولانا داود راز
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نضیر کی کھجوروں کے باغات جلوا دئیے تھے اور ان کے درختوں کو کٹوا دیا تھا یہ باغات مقام بویرہ میں تھے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی’’ جو درخت تم نے کاٹ دئیے ہیں یا جنہیں تم نے چھوڑ دیا ہے کہ وہ اپنی جڑوںپر کھڑے رہیں تو یہ اللہ کے حکم سے ہوا ہے۔‘‘ (الحشر: ۵)