حدیث نمبر: 109
109 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ الله أنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَمَّا كَذَّبَتْنِي قُرَيْشٌ قُمْتُ فِي الْحِجْرِ فَجَلاَ الله لِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ، فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ
مولانا داود راز

سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا تھا کہ جب قریش نے (معراج کے واقعہ کے سلسلے میں) مجھ کو جھٹلایا تو میں حطیم میں کھڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے میرے لئے بیت المقدس کو روشن کر دیا اور میں نے اسے دیکھ دیکھ کر قریش سے اس کے پتے اور نشان بیان کرنا شروع کر دئیے۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الايمان / حدیث: 109
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 41 باب حديث الإسراء وقول الله تعالى (سبحان الذي أسرى بعبده ليلا»