اللؤلؤ والمرجان
كتاب القسامة— کتاب: قسامہ کے مسائل
باب الصائل على نفس الإنسان أو عضوه إِذا دفعه المصول عليه فأتلف نفسه أو عضوه لا ضمان عليه باب: جب کوئی کسی کی جان یا عضو پر حملہ کرے اور وہ اس کادفاع کرے اور مدافعت میں حملہ آور کی جان یا عضو کو نقصان پہنچے تو اس پر کوئی تاوان نہ ہو گا
1089 صحيح حديث يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رضي الله عنه، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ، فَكَانَ مِنْ أَوْثَقِ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي، فَكَانَ لِي أَجِيرٌ، فَقَاتَلَ إِنْسَانًا، فَعَضَّ أَحَدُهُمَا إِصْبَعَ صَاحِبهِ، فَانْتَزَعَ إِصْبَعَهُ، فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ فَسَقَطَتْ فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، وَقَالَ: أَفَيَدَعُ إِصْبَعَهُ فِي فِيكَ تقْضَمُهَا قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ: كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُحضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جیش عسرہ ( غزوۂ تبوک) میں گیا تھا یہ میرے نزدیک میرا سب سے زیادہ قابل اعتماد نیک عمل تھا۔ میرے ساتھ ایک مزدور بھی تھا۔ وہ ایک شخص سے جھگڑا اور ان میں سے ایک نے دوسرے مقابل والے کی انگلی چبا ڈالی۔ دوسرے نے جو اپنا ہاتھ زور سے کھینچا تو اس کے آگے کے دانت بھی ساتھ ہی کھنچے چلے آئے اور گر گئے۔ اس پر وہ شخص اپنا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دانت( ٹوٹنے کا) کوئی قصاص نہیں دلوایا، بلکہ فرمایا کہ کیا وہ اپنی انگلی تمھارے منہ میں چبانے کے لیے چھوڑ دیتا۔ راوی نے کہا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ آپ نے یوں بھی فرمایا جس طرح اونٹ چبا لیا کرتا ہے۔