اللؤلؤ والمرجان
كتاب الأيمان— کتاب: قسموں کے مسائل
باب إطعام المملوك مما يأكل وإِلباسه مما يلبس ولا يكلفه ما يغلبه باب: غلام کو اپنے جیسا کھلانے، پہنانے اور زیادہ بوجھ نہ ڈالنے کا بیان
1077 صحيح حديث أَبِي ذَرٍّ عَنِ الْمَعْرُورِ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ، وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ وَعَلَى غُلاَمِهِ حُلَّةٌ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذلِكَ، فَقَالَ: إِنِّي سَابَبْتُ رَجُلاً فَعَيَّرْتُهُ بِأُمِّهِ، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَبَا ذَرٍّ أَعَيَّرْتَهُ بِأُمِّهِ إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ، إِخْوَانُكُمْ خَوَلُكُمْ جَعَلَهُمُ اللهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ، وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلاَ تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ، فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْحضرت معرور بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے ربذہ میں ملا۔ وہ ایک جوڑا پہنے ہوئے تھے اور ان کا غلام بھی جوڑا پہنے ہوئے تھا۔ میں نے اس کا سبب دریافت کیا تو کہنے لگے کہ میں نے ایک شخص یعنی غلام کو برا بھلا کہا تھا اور اس کو ماں کی غیرت دلائی (یعنی گالی دی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ معلوم کر کے مجھ سے فرمایا: اے ابوذر! تو نے اسے ماں کے نام سے غیرت دلائی ہے، بے شک تجھ میں ابھی کچھ زمانۂ جاہلیت کا اثر باقی ہے۔ (یاد رکھو) ماتحت لوگ تمھارے بھائی ہیں۔ اللہ نے (اپنی کسی مصلحت کی بنا پر) انھیں تمھارے قبضے میں دے رکھا ہے، لہٰذا جس کے ماتحت اس کا کوئی بھائی ہو تو اس کو بھی وہی کھلائے جو آپ کھاتا ہے اور وہی کپڑا اسے پہنائے جو آپ پہنتا ہے اور ان کو اتنے کام کی تکلیف نہ دو کہ ان کے لیے مشکل ہو جائے اور اگر کوئی حسب موقع سخت کام ڈالو تو تم خود بھی ان کی مدد کرو۔