حدیث نمبر: 1071
1071 صحيح حديث عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَبْدَ الرَّحْمنِ بْنَ سَمُرَةَ لاَ تَسْأَلِ الإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُوتِيْتَهَا عَنْ مَسْئَلَةٍ وكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُوتِيْتَهَا مِنْ غَيْرِ مَسْئَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ
مولانا داود راز

حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبدالرحمان بن سمرہ!کبھی کسی حکومت کے عہدہ کی درخواست نہ کرنا کیونکہ اگر تمہیں یہ مانگنے کے بعد ملے گا تو اللہ پاک اپنی مدد تجھ سے اٹھا لے گا۔ تو جان، تیرا کام جانے اور اگر وہ عہدہ تمہیں بغیر مانگے مل گیا تو اس میں اللہ کی طرف سے تمہاری اعانت کی جائے گی اور جب تم کوئی قسم کھا لو اور اس کے سوا کسی اور چیز میں بھلائی دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہ کام کرو جو بھلائی کا ہو۔

وضاحت:
راوي حدیث:… حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو سعید ہے۔ جاہلیت میں ان کانام عبد کلال تھا پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن رکھا۔ فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا۔ موتہ کے غزوہ میں شامل تھے۔ بصرہ میں سکونت اختیار کی اور سجستان کو فتح کیا۔ پھر خراسان میں فتوحات کیں اور بصرہ واپس لوٹ آئے۔ وہیں ۵۱ ہجری میں وفات پائی۔ چار احادیث کے راوی ہیں۔
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الأيمان / حدیث: 1071
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 83 كتاب الأيمان والنذور: 1 باب قول الله تعالى (لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم»