حدیث نمبر: 1058
1058 صحيح حديث عَائِشَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ: ذَكَرُوا عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ عَلِيًّا رضي الله عنه كَانَ وَصِيًّا فَقَالَتْ: مَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ وَقَدْ كُنْتُ مُسْنِدَتَهُ إِلَى صَدْرِي، أَوْ قَالَتْ: حَجْرِي، فَدَعَا بِالطَّسْتِ، فَلَقَدِ انْخَنَثَ فِي حَجْرِي فَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ، فَمَتَى أَوْصى إِلَيْهِ
مولانا داود راز

اسود بن یزید نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہاکے یہاں کچھ لوگوں نے ذکر کیا کہ علی کرم اللہ وجہہ (نبی اکرم کے) وصی تھے تو آپ نے کہا کہ کب انہیں وصی بنایا، میں تو آپ کی وفات کے وقت سرمبارک اپنے سینے پر یا انہوں نے (بجائے سینے کے) کہا کہ اپنی گود میں رکھے ہوئے تھی، پھر آپ نے (پانی کا) طشت منگوایا تھا کہ اتنے میں (سرمبارک) میری گود میں جھک گیا اور میں سمجھ نہ سکی کہ آپ کی وفات ہو چکی ہے تو آپ نے علی کو وصی کب بنایا؟

وضاحت:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکا مطلب یہ ہے کہ بیماری سے لے کر وفات تک تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہی پاس رہے۔ میری ہی گود میں انتقال فرمایا۔ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وصی بناتے یعنی اپنا خلیفہ مقرر کرتے… جیسے شیعہ گمان کرتے ہیں… تو مجھ کو تو ضرور خبر ہوتی۔ پس شیعوں کا یہ دعویٰ بالکل بلا دلیل ہے۔ (راز)
حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الوصية / حدیث: 1058
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 55 كتاب الوصايا: 1 باب الوصايا وقول النبي صلی اللہ علیہ وسلم وصية الرجل مكتوبة عنده»