حدیث نمبر: 1057
1057 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى عَنْ طَلْحَةَ ابْنِ مُصَرِّفٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصى قَالَ: لاَ فَقُلْتُ: كَيْفَ كُتِبَ عَلَى النَّاس الْوَصِيَّةُ، أَوْ أُمِرُوا بِالْوَصِيَّةِ قَالَ: أَوْصى بِكِتَابِ اللهِ
مولانا داود راز

حضرت طلحہ بن مصرف نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی وصیت کی تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ اس پر میں نے پوچھا کہ پھر وصیت کس طرح لوگوں پر فرض ہوئی؟ یا (راوی نے اس طرح بیان کیا) کہ لوگوں کو وصیت کا حکم کیوں کر دیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو کتاب اللہ پر عمل کرنے کی وصیت کی تھی۔ (اور کتاب اللہ میں وصیت کرنے کے لئے حکم موجود ہے)

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب الوصية / حدیث: 1057
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 55 كتاب الوصايا: 1 باب الوصايا وقول النبي صلی اللہ علیہ وسلم وصية الرجل مكتوبة عنده»