اللؤلؤ والمرجان
كتاب الهبات— کتاب: ہبہ اور صدقہ کے مسائل
باب كراهة تفضيل بعض الأولاد في الهبة باب: اولاد میں بعض لڑکوں کو کم دینا اور بعض کو زیادہ دینا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 1048
1048 صحيح حديث النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هذَا غُلاَمًا، فَقَالَ: أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ قَالَ: لاَ، قَالَ: فَارْجِعْهُمولانا داود راز
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے والد انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام بطور ہبہ دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا ایسا ہی غلام اپنے دوسرے لڑکوں کو بھی دیا ہے؟ انھوں نے کہا کہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر (ان سے بھی) واپس لے لے۔