اللؤلؤ والمرجان
كتاب المساقاة— کتاب: مساقات کے مسائل
باب النهي عن بيع الورق بالذهب دينًا باب: چاندی کی بیع سونے کے ساتھ اُدھار منع ہے
حدیث نمبر: 1022
1022 صحيح حديث الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، قَالَ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمٍ عَنِ الصَّرْفِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يَقُولُ: هذَا خَيْرٌ مِنِّي، فَكِلاَهُمَا يَقُولُ: نَهى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ دَيْنًامولانا داود راز
ابو المنہال نے بیان کیا کہ میں نے حضرت براء بن عازب اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے بیع صرف کے متعلق پوچھا، توان دونوں حضرات نے ایک دوسرے کے متعلق فرمایا کہ یہ مجھ سے بہتر ہیں۔ آخر دونوں حضرات نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کو چاندی کے بدلے میں ادھار کی صورت میں بیچنے سے منع فرمایا ہے۔