اللؤلؤ والمرجان
كتاب المساقاة— کتاب: مساقات کے مسائل
باب فضل إنظار المعسر باب: مفلس کو مہلت دینے کی فضیلت
حدیث نمبر: 1006
1006 صحيح حديث حُذَيْفَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَلَقَّتِ الْمَلاَئِكَةُ رُوحَ رَجُلٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، قَالُوا أَعَمِلْتَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا، قَالَ: كُنْتُ آمُرُ فِتْيَانِي أَنْ يُنْظِرُوا وَيَتَجَاوَزُوا عَنِ الْمُوسِرِ، قَالَ: قَالَ فَتَجَاوَزُوا عَنْهُمولانا داود راز
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے گزشتہ امتوں کے کسی شخص کی روح کے پاس (موت کے وقت) فرشتے آئے اور پوچھا کہ تو نے کچھ اچھے کام بھی کیے ہیں؟ روح نے جواب دیا کہ میں اپنے نوکروں سے کہا کرتا تھا کہ وہ مالدار لوگوں کو (جو ان کے مقروض ہوں) مہلت دے دیا کریں اور ان پر سختی نہ کریں اور محتاجوں کو معاف کر دیا کریں۔ راوی نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر فرشتوں نے بھی اس سے درگزر کیا اور سختی نہیں کی۔