حدیث نمبر: 1003
1003 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ خُصُومٍ بِالْبَابِ عَالِيَةٍ أَصْوَاتُهُمَا، وَإِذَا أَحَدُهُمَا يَسْتَوْضِعُ الآخَرَ وَيَسْتَرْفِقُهُ فِي شيْءٍ، وَهُوَ يَقُولُ: وَاللهِ لاَ أَفْعَلُ فَخَرَجَ عَلَيْهِمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ: أَيْنَ الْمُتَأَلِّي عَلَى اللهِ لاَ يَفْعَلُ الْمَعْرُوفَ فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ وَلَهُ أَيُّ ذَلِكَ أَحَبَّ
مولانا داود راز

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے پر دو جھگڑا کرنے والوں کی آواز سنی جو بلند ہو گئی تھی۔ واقعہ یہ تھا کہ ایک آدمی دوسرے سے قرض میں کچھ کمی کرنے اور تقاضے میں کچھ نرمی برتنے کے لیے کہہ رہا تھا اور دوسرا کہتا تھا کہ اللہ کی قسم! میں یہ نہیں کروںگا۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے اور فرمایا کہ اس بات پر اللہ کی قسم کھانے والے صاحب کہاں ہیں؟ کہ وہ ایک اچھا کام نہیں کریں گے۔ ان صحابی نے عرض کی: میں ہی ہوں یارسول اللہ! اب میرا بھائی جو چاہتا ہے وہی مجھ کو بھی پسند ہے۔

حوالہ حدیث اللؤلؤ والمرجان / كتاب المساقاة / حدیث: 1003
درجۂ حدیث محدثین: «صحیح»
تخریج حدیث «صحیح، أخرجه البخاري في: 53 كتاب الصلح: 10 باب هل يشير الإمام بالصلح»