اللؤلؤ والمرجان
كتاب الايمان— کتاب: ایمان کا بیان
باب بدء الوحى إِلى رسول الله ﷺ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترنا کیونکر شروع ہوا
100 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: بَيْنَا أَنَا أَمْشِي إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِي فَإِذَا الْمَلكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، فَرُعِبْتُ مِنْهُ، فَرَجَعْتُ، فَقُلْتُ: زَمِّلُونِي، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى (يأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ) إِلَى قَوْلِهِ: (وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ) فَحَمِيَ الْوَحْيُ وَتَتَابَعَسیّدناجابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کے زمانے کے حالات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک روز میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان کی طرف ایک آواز سنی اور میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے بیچ میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے میں اس سے ڈر گیا اور گھر آنے پر میں نے پھر کمبل اوڑھنے کی خواہش ظاہر کی اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ آیات نازل ہوئیں اے لحاف اوڑھ کر لیٹنے والے اٹھ کھڑا ہو اور لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرا اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھ اور گندگی سے دور رہ (المدثر ۵۱) اس کے بعد وحی تیزی کے ساتھ پے در پے آنے لگی۔