حدیث نمبر: 4293
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ , قَسَمَ مِنْهَا رَحْمَةً بَيْنَ جَمِيعِ الْخَلَائِقِ , فَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ , وَبِهَا يَتَعَاطَفُونَ , وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَى أَوْلَادِهَا , وَأَخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ رَحْمَةً , يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں ، ان میں سے ایک رحمت کو تمام مخلوقات کے درمیان تقسیم کر دیا ہے ، اسی کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر رحم اور شفقت کرتے ہیں ، اور اسی وجہ سے وحشی جانور اپنی اولاد پر رحم کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ننانوے رحمتیں محفوظ کر رکھی ہیں ، ان کے ذریعے وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم کرے گا “ ۔
حدیث نمبر: 4294
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ , يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ , مِائَةَ رَحْمَةٍ , فَجَعَلَ فِي الْأَرْضِ مِنْهَا رَحْمَةً , فَبِهَا تَعْطِفُ الْوَالِدَةُ عَلَى وَلَدِهَا , وَالْبَهَائِمُ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ , وَالطَّيْرُ , وَأَخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ , فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ , أَكْمَلَهَا اللَّهُ بِهَذِهِ الرَّحْمَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ عزوجل نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ، سو رحمتیں پیدا کیں ، زمین میں ان سو رحمتوں میں سے ایک رحمت بھیجی ، اسی کی وجہ سے ماں اپنے بچے پر رحم کرتی ہے ، اور چرند و پرند جانور بھی ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں ، اور ننانوے رحمتوں کو اس نے قیامت کے دن کے لیے اٹھا رکھا ہے ، جب قیامت کا دن ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ ان رحمتوں کو پورا کرے گا “ ۔
حدیث نمبر: 4295
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , لَمَّا خَلَقَ الْخَلْقَ كَتَبَ بِيَدِهِ عَلَى نَفْسِهِ , إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اللہ عزوجل نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنے ہاتھ سے اپنے اوپر یہ لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے “ ۔
حدیث نمبر: 4296
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ , عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى حِمَارٍ , فَقَالَ : " يَا مُعَاذُ , هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ؟ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ ؟ " , قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ : " فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا , وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس گزرے اور میں ایک گدھے پر سوار تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” معاذ ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا حق بندوں پر کیا ہے ؟ اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر کیا ہے “ ؟ میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ، اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے کہ جب وہ ایسا کریں تو وہ ان کو عذاب نہ دے “ ۔
حدیث نمبر: 4297
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَعْيَنَ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ يَحْيَى الشَّيْبَانِيُّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ , فَمَرَّ بِقَوْمٍ , فَقَالَ : " مَنِ الْقَوْمُ " , فَقَالُوا : نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ , وَامْرَأَةٌ تَحْصِبُ تَنُّورَهَا , وَمَعَهَا ابْنٌ لَهَا , فَإِذَا ارْتَفَعَ وَهَجُ التَّنُّورِ , تَنَحَّتْ بِهِ , فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " , قَالَتْ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَرْحَمِ الرَّاحِمِينَ ؟ قَالَ : " بَلَى " , قَالَتْ : أَوَلَيْسَ اللَّهُ بِأَرْحَمَ بِعِبَادِهِ مِنَ الْأُمِّ بِوَلَدِهَا ؟ قَالَ : " بَلَى " , قَالَتْ : فَإِنَّ الْأُمَّ لَا تُلْقِي وَلَدَهَا فِي النَّارِ , فَأَكَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهَا , فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ مِنْ عِبَادِهِ إِلَّا الْمَارِدَ الْمُتَمَرِّدَ , الَّذِي يَتَمَرَّدُ عَلَى اللَّهِ , وَأَبَى أَنْ يَقُولَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں شریک تھے کہ آپ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے تو پوچھا : ” تم کون لوگ ہو “ ؟ انہوں نے کہا : ہم مسلمان ہیں ، ان میں ایک عورت تنور میں ایندھن جھوک رہی تھی ، اور اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا ، جب تنور کی آگ بھڑک اٹھی وہ اپنے بیٹے کو لے کر ہٹ گئی ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ عورت نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کیا اللہ سارے رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا نہیں ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیوں نہیں “ وہ بولی : کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ رحم نہیں کرے گا جتنا ماں اپنے بچے پر کرتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیوں نہیں “ ؟ اس نے کہا : ماں تو اپنے بچے کو آگ میں نہیں ڈالتی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر جھکا دیا ، اور روتے رہے پھر اپنا سر اٹھایا ، اور فرمایا : اللہ تعالیٰ اپنے انہی بندوں کو عذاب دے گا جو بہت سرکش و شریر ہیں ، اور جو اللہ تعالیٰ کے باغی ہوتے ہیں اور «لا إله إلا الله» کہنے سے انکار کرتے ہیں “ ۔
حدیث نمبر: 4298
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِلَّا شَقِيٌّ " , قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَنِ الشَّقِيُّ ؟ قَالَ : " مَنْ لَمْ يَعْمَلْ لِلَّهِ بِطَاعَةٍ وَلَمْ يَتْرُكْ لَهُ مَعْصِيَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہنم میں کوئی نہیں جائے گا سوائے بدبخت کے “ لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! بدبخت کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کبھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہیں کی ، اور کوئی گناہ نہ چھوڑا “ ۔
حدیث نمبر: 4299
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخُو حَزْمٍ الْقُطَعِيِّ , حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَرَأَ أَوْ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ : هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ سورة المدثر آية 56 , فَقَالَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : أَنَا أَهْلٌ أَنْ أُتَّقَى , فَلَا يُجْعَلْ مَعِي إِلَهٌ آخَرُ , فَمَنِ اتَّقَى أَنْ يَجْعَلَ مَعِي إِلَهًا آخَرَ , فَأَنَا أَهْلٌ أَنْ أَغْفِرَ لَهُ " , قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ : حَدَّثَنَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ , حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ , عَنْ ثَابِتٍ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ : هُوَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ سورة المدثر آية 56 , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ رَبُّكُمْ : أَنَا أَهْلٌ أَنْ أُتَّقَى فَلَا يُشْرَكَ بِي غَيْرِي , وَأَنَا أَهْلٌ لِمَنِ اتَّقَى أَنْ يُشْرِكَ بِي أَنْ أَغْفِرَ لَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت : «هو أهل التقوى وأهل المغفرة» یعنی ” اللہ ہی سے ڈرنا چاہیئے اور وہی گناہ بخشنے کا اہل ہے “ ( سورۃ المدثر : ۵۶ ) تلاوت فرمائی ، اور فرمایا : ” اللہ عزوجل فرماتا ہے میں اس کے لائق ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے ، اور میرے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنایا جائے ، تو جو میرے ساتھ کوئی دوسرا معبود بنانے سے بچے تو میں ہی اس کا اہل ہوں کہ اس کو بخش دوں “ دوسری سند اس سند سے بھی انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت : «هو أهل التقوى وأهل المغفرة» کے بارے میں کہ تمہارے رب نے فرمایا : ” میں ہی اس بات کا اہل ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے ، میرے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کیا جائے ، اور جو میرے ساتھ شریک کرنے سے بچے میں اہل ہوں اس بات کا کہ اسے بخش دوں “ ۱؎ ۔
حدیث نمبر: 4300
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ يَحْيَى , عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ , قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُصَاحُ بِرَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ , فَيُنْشَرُ لَهُ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ سِجِلًّا , كُلُّ سِجِلٍّ مَدَّ الْبَصَرِ , ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : هَلْ تُنْكِرُ مِنْ هَذَا شَيْئًا , فَيَقُولُ : لَا يَا رَبِّ , فَيَقُولُ : أَظَلَمَتْكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ , ثُمَّ يَقُولُ : أَلَكَ عُذْرًا ؟ أَلَكَ عنْ ذَلِكَ حَسَنَةٌ ؟ فَيُهَابُ الرَّجُلُ فَيَقُولُ : لَا , فَيَقُولُ : بَلَى , إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَاتٍ , وَإِنَّهُ لَا ظُلْمَ عَلَيْكَ الْيَوْمَ , فَتُخْرَجُ لَهُ بِطَاقَةٌ فِيهَا : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ , قَالَ : فَيَقُولُ : يَا رَبِّ , مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلَّاتِ , فَيَقُولُ : إِنَّكَ لَا تُظْلَمُ , فَتُوضَعُ السِّجِلَّاتُ فِي كِفَّةٍ وَالْبِطَاقَةُ فِي كِفَّةٍ , فَطَاشَتِ السِّجِلَّاتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ " , قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى : الْبِطَاقَةُ الرُّقْعَةُ , وَأَهْلُ مِصْرَ يَقُولُونَ لِلرُّقْعَةِ : بِطَاقَةً .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن تمام لوگوں کے سامنے میری امت کے ایک شخص کی پکار ہو گی ، اور اس کے ننانوے دفتر پھیلا دئیے جائیں گے ، ہر دفتر حد نگاہ تک پھیلا ہو گا ، پھر اللہ عزوجل فرمائے گا : کیا تم اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہو ؟ وہ کہے گا : نہیں ، اے رب ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا میرے محافظ کاتبوں نے تم پر ظلم کیا ہے ؟ پھر فرمائے گا : کیا تمہارے پاس کوئی نیکی بھی ہے ؟ وہ آدمی ڈر جائے گا ، اور کہے گا : نہیں ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : نہیں ، ہمارے پاس کئی نیکیاں ہیں ، اور آج کے دن تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا ، پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس پر «أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله» لکھا ہو گا ، وہ کہے گا : اے میرے رب ! ان دفتروں کے سامنے یہ پرچہ کیا حیثیت رکھتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : آج تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا ، پھر وہ تمام دفتر ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں ، وہ سارے دفتر ہلکے پڑ جائیں گے اور پرچہ بھاری ہو گا ۱؎ ۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں : «بطاقہ» پرچے کو کہتے ہیں ، اہل مصر رقعہ کو «بطاقہ» کہتے ہیں “ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ حدیث «حدیث بطاقہ» کے نام سے مشہور ہے، اور اس میں گنہگار مسلمانوں کے لئے بڑی امید ہے، شرط یہ ہے کہ ان کا خاتمہ ایمان پر ہو۔