کتب حدیث ›
سنن ابن ماجه › ابواب
› باب: جن چیزوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ چاہی ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 3838
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ جَمِيعًا , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ , وَعَذَابِ النَّارِ , وَمِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ , وَعَذَابِ الْقَبْرِ , وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى , وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ , وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ , اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ , وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا , كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ , وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ , كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ , اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ , وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ دعا کیا کرتے تھے : «اللهم إني أعوذ بك من فتنة النار وعذاب النار ومن فتنة القبر وعذاب القبر ومن شر فتنة الغنى وشر فتنة الفقر ومن شر فتنة المسيح الدجال اللهم اغسل خطاياي بماء الثلج والبرد ونق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس وباعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والمأثم والمغرم» ” اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے فتنہ اور جہنم کے عذاب سے ، اور قبر کے فتنہ اور اس کے عذاب سے ، اور مالداری و فقیری کے فتنے کی برائی سے ، اور مسیح الدجال کے فتنے کی برائی سے ، اے اللہ ! میرے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھو ڈال ، اور میرے دل کو گناہوں سے پاک و صاف کر دے ، جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک و صاف کیا ہے ، اور میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دوری کر دے جس طرح تو نے پورب اور پچھم کے درمیان دوری کی ہے ، اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں سستی ، بڑھاپے ، گناہ اور قرض سے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس بڑھاپے سے پناہ مانگی جس میں آدمی معذور اور بے عقل ہو جاتا ہے، اور مالداری کے فتنے یہ ہیں: بخل،حرص، زکاۃ نہ دینا، سود کھانا، اللہ تعالی سے غافل ہو جانا، مستحقوں کی خبر گیری نہ کرنا وغیرہ وغیرہ، فقیری کا فتنہ یہ ہے کہ مال کے لالچ میں دین کو کھو بیٹھنا، کفار اور فساق کی صحبت اختیار کرنا۔
حدیث نمبر: 3839
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ حُصَيْنٍ , عَنْ هِلَالٍ , عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ , قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ دُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ : كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ , وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فروہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی دعا کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا : آپ کہتے تھے : «اللهم إني أعوذ بك من شر ما عملت ومن شر ما لم أعمل» ” اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ان کاموں کی برائی سے جو میں نے کئے اور ان کاموں کی برائی سے جو میں نے نہیں کئے “ ۔
حدیث نمبر: 3840
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ , حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سُلَيْمٍ , حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الْخَرَّاطُ , عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا هَذَا الدُّعَاءَ , كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ , وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ , وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ , وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے قرآن کی سورت سکھاتے اسی طرح یہ دعا بھی ہمیں سکھاتے تھے : «اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم وأعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» ” اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے ، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے ، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں مسیح دجال کے فتنہ سے ، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنہ سے “ ۔
حدیث نمبر: 3841
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ فِرَاشِهِ , فَالْتَمَسْتُهُ , فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى بَطْنِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ , وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ , وَهُوَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ , وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ , وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ , لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ , أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر موجود نہ پایا تو میں آپ کو ڈھونڈھنے لگی ( مکان میں اندھیرا تھا ) تو میرا ہاتھ آپ کے قدموں کے تلووں پر جا پڑا ، دونوں پاؤں کھڑے تھے اور آپ ( حالت سجدہ میں ) یہ دعا کر رہے تھے : «اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» ” اے اللہ ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے ، اور تیری عافیت کی تیری سزا سے ، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں تیرے عذاب سے ، میں تیری تعریف کما حقہ نہیں کر سکتا ، تو ویسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف فرمائی ہے “ ۔
حدیث نمبر: 3842
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ , عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عِيَاضٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفَقْرِ وَالْقِلَّةِ وَالذِّلَّةِ , وَأَنْ تَظْلِمَ أَوْ تُظْلَمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اللہ سے فقیری ، مال کی کمی ، ذلت ، ظلم کرنے اور ظلم کئے جانے سے پناہ مانگو “ ۔
حدیث نمبر: 3843
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَلُوا اللَّهَ عِلْمًا نَافِعًا , وَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اللہ تعالیٰ سے اس علم کا سوال کرو جو فائدہ پہنچائے ، اور اس علم سے پناہ مانگو جو فائدہ نہ پہنچائے “ ۔
حدیث نمبر: 3844
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ إِسْرَائِيلَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ عُمَرَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ : " الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ , وَأَرْذَلِ الْعُمُرِ , وَعَذَابِ الْقَبْرِ , وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ " , قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي : الرَّجُلَ يَمُوتُ عَلَى فِتْنَةٍ , لَا يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ مِنْهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بزدلی ، بخیلی ، ارذل عمر ( انتہائی بڑھاپا ) ، قبر کے عذاب اور دل کے فتنہ سے پناہ مانگتے تھے ۔ وکیع نے کہا : دل کا فتنہ یہ ہے کہ آدمی برے اعتقاد پر مر جائے ، اور اللہ تعالیٰ سے اس کے بارے میں توبہ و استغفار نہ کرے ۔