حدیث نمبر: 3723
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : أَصَابَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى بَطْنِي , فَرَكَضَنِي بِرِجْلِهِ ، وَقَالَ : " مَا لَكَ وَلِهَذَا النَّوْمِ , هَذِهِ نَوْمَةٌ يَكْرَهُهَا اللَّهُ أَوْ يُبْغِضُهَا اللَّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´طخفہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مسجد میں پیٹ کے بل ( اوندھے منہ ) سویا ہوا پایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں سے مجھے ہلا کر فرمایا : ” تم اس طرح کیوں سو رہے ہو ؟ یہ سونا اللہ کو ناپسند ہے “ ۔
وضاحت:
پیٹ کے بل لیٹنا ممنوع ہے۔
حدیث نمبر: 3724
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ ابْنِ طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , قَالَ : مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُضْطَجِعٌ عَلَى بَطْنِي , فَرَكَضَنِي بِرِجْلِهِ , وَقَالَ : " يَا جُنَيْدِبُ , إِنَّمَا هَذِهِ ضِجْعَةُ أَهْلِ النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اس حال میں کہ میں پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیر سے ہلا کر فرمایا : ” «جنيدب» ! ( یہ ابوذر کا نام ہے ) سونے کا یہ انداز تو جہنمیوں کا ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: پیٹ کے بل سونے میں جہنمیوں کی مشابہت ہے، قرآن میں ہے: «يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر» (سورة القمر: 48) یعنی اوندھے منہ جہنم میں کھینچے جائیں گے، یہ بھی ایک ممانعت کی وجہ ہے۔
حدیث نمبر: 3725
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ , حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ , عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ جَمِيلٍ الدِّمَشْقِيِّ , أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ نَائِمٍ فِي الْمَسْجِدِ مُنْبَطِحٍ عَلَى وَجْهِهِ , فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ , وَقَالَ : " قُمْ وَاقْعُدْ , فَإِنَّهَا نَوْمَةٌ جَهَنَّمِيَّةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس ہوا جو اوندھے منہ مسجد میں سو رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پیر سے ہلا کر فرمایا : ” اٹھ کر بیٹھو ، اس طرح سونا جہنمیوں کا سونا ہے “ ۔