کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: تصویروں کو پامال اور روندی جانے والی جگہوں میں رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3653
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : سَتَرْتُ سَهْوَةً لِي تَعْنِي : الدَّاخِلَ بِسِتْرٍ فِيهِ تَصَاوِيرُ , فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَتَكَهُ , فَجَعَلْتُ مِنْهُ مَنْبُوذَتَيْنِ : " فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى إِحْدَاهُمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے اپنے روشن دان پر پردہ ڈالا یعنی اندر سے ، پردے میں تصویریں تھیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، تو آپ نے اسے پھاڑ ڈالا ، میں نے اس سے دو تکیے بنا لیے پھر میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے نقشی تصویر کی بھی حرمت نکلتی ہے، اور بعضوں نے کہا آپ کا یہ فعل حرمت کی وجہ سے نہ تھا، بلکہ آپ ﷺ نے نبوت کے خاندان میں دنیا کی زیب و زینت اور آرائستگی کو برا سمجھا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب اللباس / حدیث: 3653
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن، بخاري ومسلم
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 17427 ، ومصباح الزجاجة : 1268 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/المظالم 32 ( 2479 ، 2476 ) ، اللباس 91 ( 5954 ، 5955 ) ، الأدب 75 ( 6109 ) ، ( بدون ذکرالصلاة في المواضع الثلاثة ) صحیح مسلم/اللباس 26 ( 2107 ) ، سنن النسائی/القبلة 12 ( 762 ) ، الزینة من المجتبیٰ 57 ( 5356 ) ، مسند احمد ( 6/174 ) ، سنن الدارمی/الاستئذان 33 ( 2704 ) ( حسن صحیح ) » ( سند میں اسامہ بن زید ضعیف ہے ، لیکن دوسرے طرق سے صحیح ہے ، کمافی التخریج )