کتب حدیثسنن ابن ماجهابوابباب: شراب سے علاج منع ہے۔
حدیث نمبر: 3500
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أَنْبَأَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ , عَنْ طَارِقِ بْنِ سُوَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ , قَالَ : قُلْتُ : يَا َرَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ بِأَرْضِنَا أَعْنَابًا نَعْتَصِرُهَا فَنَشْرَبُ مِنْهَا , قَالَ : " لَا " , فَرَاجَعْتُهُ , قُلْتُ : إِنَّا نَسْتَشْفِي بِهِ لِلْمَرِيضِ , قَالَ : " إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِشِفَاءٍ وَلَكِنَّهُ دَاءٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´طارق بن سوید حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے ملک میں انگور ہیں ، کیا ہم انہیں نچوڑ کر پی لیا کریں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں “ ، میں نے دوبارہ عرض کیا کہ ہم اس سے مریض کا علاج کرتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ دوا نہیں بلکہ خود بیماری ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: بیماری کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک یہ ہے کہ ہر گناہ بیماری ہے، دوسرے یہ کہ شراب سے بیماری پیدا ہو تی ہے شفا نہیں ہوتی، دونوں سچ ہیں، شراب سے مسلمان کو سوائے ضرر کے کبھی فائدہ حاصل نہ ہو گا، اور بادی النظر میں جو کسی کو شراب پینے سے پہلے پہل کچھ فائدہ نظر آتا ہے، یہ فائدہ نہیں بلکہ مقدمہ ہے اس بڑے نقصان کا جو آگے چل کر پیدا ہو گا، اب تمام اطباء اتفاق کرتے جاتے ہیں کہ شراب میں نقصان ہی نقصان ہے، فائدہ موہوم ہے، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث اوپر گزری کہ رسول اکرم ﷺ نے خبیث دوا سے منع کیا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطب / حدیث: 3500
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الطب 11 ( 3873 ) ، ( تحفة الأشراف : 4980 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/311 ، 5/293 ) ( صحیح ) »