کتب حدیث ›
سنن ابن ماجه › ابواب
› باب: آدمی مشروب پی کر داہنی طرف والے کو دے پھر وہ اپنے داہنی طرف والے کو۔
حدیث نمبر: 3425
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيبَ بِمَاءٍ , وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ , وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ فَشَرِبَ , ثُمَّ أَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ , وَقَالَ : " الْأَيْمَنُ فَالْأَيْمَنُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ آیا جس میں پانی ملا ہوا تھا ، اس وقت آپ کے دائیں جانب ایک اعرابی اور آپ کے بائیں جانب ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا ، پھر اعرابی کو دیا اور فرمایا : ” دائیں طرف والے کو دینا چاہیئے ، پھر وہ اپنے دائیں طرف والے کو دے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: حالانکہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا درجہ اس اعرابی سے بہت زیادہ تھا مگر آپ ﷺ نے داہنے کی رعایت مقام و مرتبت پر مقدم رکھی۔
حدیث نمبر: 3426
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَبَنٍ , وَعَنْ يَمِينِهِ ابْنُ عَبَّاسٍ , وَعَنْ يَسَارِهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ عَبَّاسٍ : " أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَسْقِيَ خَالِدًا ؟ " , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : مَا أُحِبُّ أَنْ أُوثِرَ بِسُؤْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَلَى نَفْسِي أَحَدًا , فَأَخَذَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَشَرِبَ , وَشَرِبَ خَالِدٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ آیا ، اس وقت آپ کے دائیں جانب ابن عباس رضی اللہ عنہما اور بائیں جانب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا : کیا تم مجھے اس کی اجازت دیتے ہو کہ پہلے خالد کو پلاؤں ؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوٹھے کے لیے اپنے اوپر کسی کو ترجیح دینا پسند نہیں کرتا ، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لیا ، اور پیا ، اور پھر خالد رضی اللہ عنہ نے پیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کم عمر بچے تھے، اور خالد رضی اللہ عنہ بڑی عمر والے، اس لئے آپ ﷺ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پہلے ان کو دینے کی اجازت چاہی، لیکن جب انہوں نے اجازت نہ دی تو آپ ﷺ خاموش ہے کیونکہ اصولاًا ور قاعدے سے پہلے ابن عباس رضی اللہ عنہ کا حق تھا، ان پر زبردستی نہیں ہو سکتی تھی۔