حدیث نمبر: 3312
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَسَدٍ , حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ , قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَكَلَّمَهُ , فَجَعَلَ تُرْعَدُ فَرَائِصُهُ , فَقَالَ لَهُ : " هَوِّنْ عَلَيْكَ , فَإِنِّي لَسْتُ بِمَلِكٍ , إِنَّمَا أَنَا ابْنُ امْرَأَةٍ تَأْكُلُ الْقَدِيدَ " , قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : إِسْمَاعِيل وَحْدَهُ , وَصَلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا ، آپ نے اس سے گفتگو کی تو ( خوف کی وجہ سے ) اس کے مونڈھے کانپنے لگے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا : ” ڈرو نہیں ، اطمینان رکھو ، میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں ، میں تو ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا گوشت کھایا کرتی تھی ۱؎ ۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں : صرف اسماعیل نے اسے موصول بیان کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: «قدید» : ایسے گوشت کو کہتے ہیں جسے نمک لگا کر دھوپ میں سکھایا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 3313
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ , أَخْبَرَنِي أَبِي , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " لَقَدْ كُنَّا نَرْفَعُ الْكُرَاعَ فَيَأْكُلُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بَعْدَ خَمْسَ عَشْرَةَ مِنَ الْأَضَاحِيِّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ہم لوگ قربانی کے گوشت میں سے پائے اکٹھا کر کے رکھ دیتے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ روز کے بعد انہیں کھایا کرتے تھے ۔